3 مئی 2011 - 19:30

سعودی عرب میں خواتین نے حق رائے دہی سے محروم ہونے کی بناپر آل سعود کی حکومت کےحلاف مقدمہ دائرکردیا ہے۔

ابنا: راصد نیوز کے مطابق سعودی عرب کی ایک خاتون رہنما فوزیہ الہانی نے سعودی خواتین کی طرف سے شہر دمام میں آل سعود کی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں خواتین کا حق رائے دہی کا حامل ہونا یا انتخابات میں حصہ لینا محال لگتا ہے لیکن اب جو بھی اقدام کیا جا رہا ہے وہ آئندہ کی نسلوں کے لئے ہے۔ فوزیہ الہانی نے کہا کہ سعودی عرب نے سنہ دوہزار میں جو معاہدہ کیا تھا اس کی روسے خواتین کو حق رائے دہی اور انتخاب میں حصہ لینے کا حق حاصل ہے لیکن اس سلسلےمیں تعصب اور امتیازی رویے سے کام نہیں لیا جانا چاہیے۔ادھر ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ سعودی حکومت نے انسانی حقوق کے ایک سوساٹھ کارکنوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے ایک بیان میں سعودی عرب میں گھٹن کے ماحول اور حکومت کی نہایت سخت گير پالیسیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت نے انسانی حقوق کے ایک سو ساٹھ کارکنوں کو گرفتار کر کے کال کوٹھریوں میں ڈال دیا ہے۔ یاد رہے کہ آل سعود کی حکومت نے ہرطرح کے جلسے جلوس اور احتجاجی اقدام پر سختی سے پابندی لگا رکھی ہے اور سعودی دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک بار پھر دھمکی دی ہے کہ مظاہرے کرنےوالوں کو کڑی سزائيں دی جائيں گي۔ادھر ان خبروں کے سامنے آنے کے بعد کہ سعودی عرب نے اپنے شہریوں کو بحرین جانے سے منع کیا ہے، سعودی دفتر خارجہ نے بوکھلاہٹ میں اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے بحرین کےحالات معمول پر ہیں۔ یاد رہے کہ بحرین میں سعودی عرب کے جارح فوجیوں کے ہاتھوں پرامن مظاہرے کرنےوالوں کی سرکوبی کے بعد بحرین میں سعودی شہریوں پرحملے ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بحرین میں حالات کشیدہ ہونے کے بعد سعودی عرب اور بحرین کو ملانے والا پل ایک ماہ سے بند ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/169